ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک پال قانون میں ترمیم کی اشدضرورت؛ کانگریس نے پھر کیا سلیکشن کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ۔اپوزیشن کو اہمیت دئے جانے کا مطالبہ

لوک پال قانون میں ترمیم کی اشدضرورت؛ کانگریس نے پھر کیا سلیکشن کمیٹی اجلاس کا بائیکاٹ۔اپوزیشن کو اہمیت دئے جانے کا مطالبہ

Wed, 11 Apr 2018 12:44:47    S.O. News Service

نئی دہلی۔11اپریل(پی ٹی آئی/یواین آئی) کانگریس نے آج ایک بار پھر لوک پال سلیکشن کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ۔ لوک سبھا میں اس کے قائد ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ انہیں حکومت نے ’’خصوصی مدعو‘‘ کی حیثیت سے دعوت دی تھی ۔اس سلسلہ میں اس کا واحد مقصد انتخاب کے عمل میں حزب اختلاف کی رائے کو خارج کرنا ہے ۔

انہو ں نے لوک پال کی تقرری کے عمل میں اپوزیشن کو اہمیت دینے پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی سے پھر درخواست کی ہے کہ اس کے لئے متعلقہ قانون میں ترمیم کے لئے آرڈی ننس لایا جائے ۔ کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی کو آج بھیجے گئے ایک خط میں کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی لوک پال مقرر کرنا چاہتی ہے ، تو اسے تقرری کے عمل میں اپوزیشن کے موقف کو اہمیت دینی ہوگی۔ اس کیلئے لوک پال بل2013 میں ترمیم کر کے سلیکشن  کمیٹی میں رکن کے طور پر’’لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر ‘‘کے مقام پر’’ایوان میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر‘‘ کا التزام کرنا چاہئے ۔

انہوں نے لوک پال کی تقرری سے متعلق ’’سلکشن کمیٹی‘‘ کی گزشتہ یکم مارچ کو بلائی گئی میٹنگ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے بھی اسی طرح کا خط وزیر اعظم کو لکھا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں میٹنگ میں ’’خصوصی مدعو‘‘کے طور پر بلایا گیا ہے اور اس وجہ سے ان کو میٹنگ میں اپنی رائے پیش کرنے اور ووٹ کرنے کا حق نہیں ہو گا تو ان کا اس میں شریک ہونا بے کار ہی ہوتا ۔کانگریس لیڈر نے آج بھیجے گئے خط میں اپنے گزشتہ خط کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر مایوسی ظاہر کی ہے کہ ان کے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی اس میں ظاہر کئے گئے خدشات کو دور کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ۔ اس خط میں بھی انہوں نے لوک پال قانون میں ترمیم کرنے کے لئے آرڈیننس لانے کی درخواست کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ وہ حکومت کو پھر سے تجویز دینا چاہتے ہیں کہ حکومت لوک پال کی تقرری کے عمل میں اپوزیشن کے موقف کو اہمیت دینے کے لئے متعلقہ قانون میں آرڈیننس کے ذریعے ضروری ترمیم کرے ۔انھوں نے لکھا ہے کہ مرکزی تفتیشی بیورو کے ڈائرکٹر کی تقرری سے متعلق سلکشن کمیٹی کے لئے ایسا انتظام کیا جا چکا ہے ، جس سے لوک پال کے معاملے میں حکومت کا دوہرا معیار ظاہر ہوتا ہے ۔ حکومت واقعی درست طریقے سے لوک پال کی تقرری کرنا چاہتی تو وہ پارلیمان کے گذشتہ اجلاس میں قانون میں ترمیم کر سکتی تھی۔


Share: